ابنا: افغانستان میں جنگ اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ پاکستان نے امریکا سے مستقبل کی افغان پالیسی واضح کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جیمز میٹس کے حالیہ دورہ پاکستان اور عسکری قیادت سے ملاقاتوں کے حوالے سے اعلٰی عسکری ذرائع نے میڈیا کو بتایا ہے کہ پاکستان نے امریکا سے کہا ہے کہ مستقبل کی افغان پالیسی واضح ہونی چاہیے کیونکہ بات چیت اور جنگ ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون اور وزارت خارجہ کی پالیسیوں اور بیانات میں تضاد ہے۔ پاکستان نے دریافت کیا ہے کہ سراج الدین حقانی یا دیگر طالبان رہنماوٴں کو دہشتگرد قرار دینے سے سیاسی مصالحت کا عمل کیسے سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔؟ ذرائع کے مطابق امریکا پر واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان امریکی خواہش پر ہی افغانستان میں امن اور سیاسی مصالحتی عمل آگے بڑھانے کے لیے کردار ادا کرتا رہا ہے اور اب بھی تیار ہے لیکن اس پر پاکستان کو ہی الزامات کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنا ضروری ہے تو پھر پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی کیوں دی جا رہی ہے۔؟ ذرائع کے مطابق پاکستان نے امریکا کو تجویز دی ہے کہ افغانستان میں سازگار ماحول کے لیے نیٹو افواج اور طالبان کے درمیان جنگ بندی ہونی چاہیے کیونکہ تشدد کی پالیسی ترک کرنے سے ہی مصالحتی عمل مثبت سمت میں آگے بڑھ سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل جیمس نے پاکستانی عسکری قیادت کے موقف کی تائید کی اور یقین دلایا ہے کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ کشیدگی میں کمی میں کردار ادا کریں گے۔
.............
/169